صحت و دل

دائمی تناؤ خون کی نالیوں کو کس طرح نقصان پہنچاتا ہے

اپریل ۲۰۲۵ آخری تازہ کاری: ۲۴ اپریل ۲۰۲۵
ذہنی سکون اور تناؤ

پاکستان میں ذہنی تناؤ ایک عام مسئلہ بن چکا ہے، خاص طور پر شہری آبادی میں جہاں کام کا دباؤ، مہنگائی اور سماجی توقعات ایک ساتھ موجود ہیں۔ لیکن جب یہ تناؤ عارضی نہیں رہتا اور مہینوں یا برسوں تک جاری رہتا ہے تو اس کا اثر صرف ذہن تک محدود نہیں رہتا — یہ خون کی نالیوں اور دل کو بھی متاثر کرنے لگتا ہے۔

کارٹیسول — تناؤ کا ہارمون

جب کوئی شخص مسلسل دباؤ میں رہتا ہے تو ادرینل غدود کارٹیسول نامی ہارمون خارج کرتے ہیں۔ عام حالات میں یہ ہارمون توانائی فراہم کرتا ہے اور خطرے کے وقت جسم کو تیار کرتا ہے۔ لیکن جب یہ سطح دن بھر بلند رہے تو یہی ہارمون نقصاندہ بن جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق دائمی نفسیاتی دباؤ اور قلبی امراض کے درمیان ایک واضح تعلق موجود ہے۔ مستقل طور پر بلند کارٹیسول خون کی نالیوں کی دیواروں میں سوزش پیدا کرتا ہے، جو آگے چل کر ایتھروسکلیروسس (شریانوں کا سخت ہونا) کا سبب بن سکتی ہے۔

خون کی نالیوں پر براہ راست اثرات

طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل تناؤ کی صورت میں درج ذیل تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں:

پاکستانی مردوں میں یہ مسئلہ زیادہ کیوں؟

پاکستانی مردوں پر روایتی طور پر خاندان کے بنیادی کفیل ہونے کا دباؤ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی غذا میں نمک، گھی اور تلی ہوئی چیزوں کا بکثرت استعمال تناؤ کے نقصانات کو اور بڑھا دیتا ہے۔ جو شخص پہلے سے زیادہ نمک کھاتا ہو اور ذہنی دباؤ بھی زیادہ ہو، اس کے بلڈ پریشر پر اثر دوگنا پڑتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق جو مرد اپنے جذبات ظاہر نہیں کرتے اور مسائل خود ہی برداشت کرتے رہتے ہیں، ان میں قلبی بیماریوں کا خطرہ ان لوگوں سے ۳۵ فیصد زیادہ ہوتا ہے جو اپنے تجربات دوسروں سے شیئر کرتے ہیں۔

جسم کے اندر کیا ہوتا ہے؟

مسلسل تناؤ کے دوران جسم ہمیشہ "لڑو یا بھاگو" کی حالت میں رہتا ہے۔ اس کیفیت میں جسم کے ہاضمے، سونے، اور صحت یابی کے عمل سست پڑ جاتے ہیں کیونکہ تمام توانائی "بحران" سے نمٹنے پر صرف ہوتی ہے۔ نتیجتاً:

علامات جن پر توجہ دینی چاہیے

اگر آپ مندرجہ ذیل علامات محسوس کر رہے ہیں تو یہ دائمی تناؤ کے جسمانی اثرات ہو سکتے ہیں:

کب ڈاکٹر سے ملیں؟

اگر یہ علامات دو ہفتوں سے زیادہ جاری رہیں اور بلڈ پریشر مسلسل ۱۴۰/۹۰ سے اوپر ہو تو طبی معائنہ ضروری ہے۔ امریکی قومی ادارہ صحت (NIH) کے مطابق بروقت تشخیص قلبی بیماریوں کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔

روزمرہ زندگی میں کیا کیا جا سکتا ہے؟

ذہنی تناؤ کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، لیکن اسے قابو میں رکھنا ممکن ہے۔ طبی ماہرین کی تجاویز میں شامل ہیں:

یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ یہ طبی مشورے کا متبادل نہیں ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی فیصلے سے پہلے اپنے معالج سے رجوع کریں۔