مذہب و نفسیات

مراقبہ اور نماز — بلڈ پریشر اور ذہنی سکون پر اثر

اپریل ۲۰۲۵ آخری تازہ کاری: ۲۴ اپریل ۲۰۲۵
اجتماعی نماز

اسلام میں نماز محض ایک مذہبی فریضہ نہیں — یہ ایک منظم جسمانی اور نفسیاتی عمل بھی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں کی گئی طبی تحقیقات نے نماز اور مراقبے کے صحت پر اثرات کو سائنسی انداز میں پرکھنا شروع کیا ہے، اور نتائج توقع سے زیادہ مثبت رہے ہیں۔

نماز اور بلڈ پریشر — کیا کہتی ہے تحقیق؟

ملیشیا اور سعودی عرب میں کی گئی علیحدہ علیحدہ تحقیقات میں دیکھا گیا کہ جو افراد پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں، ان کا اوسط بلڈ پریشر ان افراد کے مقابلے میں کم تھا جو نماز نہیں پڑھتے۔ خاص طور پر فجر کی نماز سے پہلے کا وقت، جب سیمپیتھیٹک اعصابی نظام فعال ہوتا ہے، بلڈ پریشر پر اس کا اثر نمایاں طور پر ریکارڈ کیا گیا۔

PubMed پر شائع ہونے والی ایک جائزہ تحقیق کے مطابق مذہبی عبادات میں شامل جسمانی حرکات، سانس کی ردھم، اور ذہنی یکسوئی مل کر پیراسیمپیتھیٹک اعصابی نظام کو متحرک کرتی ہیں — یعنی وہ حصہ جو جسم کو آرام دینے کا کام کرتا ہے۔

نماز میں کون سے عناصر طبی طور پر اہم ہیں؟

نماز کے مختلف حصوں کو طبی نقطہ نظر سے دیکھیں تو:

مراقبہ اور نماز میں مشترکات

دنیا بھر میں مراقبے (Meditation) کے صحت پر اثرات پر سیکڑوں تحقیقات ہو چکی ہیں۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول کے مطابق باقاعدہ مراقبے سے:

نماز میں ان سبھی اثرات کی بنیادی شرائط موجود ہیں — یعنی یکسوئی، منظم سانس، جسمانی حرکت اور ذہنی خاموشی۔

جو شخص پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتا ہے وہ دن میں کم از کم ۱۰۰ مرتبہ جھکنے کی حرکت کرتا ہے — یہ ایک قسم کی روزانہ کی جسمانی ورزش بھی ہے جسے اکثر لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں۔

فجر کی نماز کا خاص کردار

صبح سویرے بیدار ہونا اور نماز ادا کرنا جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کو منظم کرتا ہے۔ جن لوگوں کا سونے اور جاگنے کا وقت مستقل ہو، ان میں بلڈ پریشر اور کارٹیسول کے اتار چڑھاؤ قابو میں رہتے ہیں۔ فجر کی نماز اس لحاظ سے ایک قدرتی نظام فراہم کرتی ہے۔

پاکستانی مرد اور باقاعدہ نماز

پاکستان میں گیلپ سروے کے مطابق شہری علاقوں میں باقاعدہ نماز پڑھنے والوں کی تعداد کم ہو رہی ہے، خاص طور پر کاروباری یا دفتری مصروفیات کی وجہ سے۔ لیکن وہ افراد جو کام کے درمیان بھی نماز کا وقفہ لیتے ہیں، وہ اکثر ذہنی طور پر تازہ اور کم تھکے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ یہ محض نفسیاتی اثر نہیں — اس کی وجہ وہ جسمانی تبدیلیاں ہیں جو نماز کے دوران رونما ہوتی ہیں۔

روزمرہ میں کیا کیا جا سکتا ہے؟

اگر کوئی شخص نماز کے علاوہ بھی ذہنی سکون کے لیے کچھ کرنا چاہے تو یہ طریقے مددگار ہو سکتے ہیں:

یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ یہ طبی مشورے کا متبادل نہیں ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی فیصلے سے پہلے اپنے معالج سے رجوع کریں۔